شکر ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے۔؟

شکر ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے۔؟

شکر ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے۔؟

اپنی روز مرہ ڈیری مصنوعات کی جگہ ان کے متبادل استعمال کریں۔
 گائے کا دودھ آپ کی روز مرہ خوراک کا اہم جزو ہے۔ دنیا بھر میں گائے کا دودھ ہر روز مختلف طریقوں سے استعمال ہوتا ہے اسے چائے، کافی، ڈیزرٹس، میٹھی ڈشز، کھیر، فرنی، کسٹرڈ اور کئی دیگر پکوانوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم کئی لوگوں کے لیے گائے کا دودھ ہضم کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دنیا بھر میں 65 فیصد سے زائد ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپے جسم میں شکر کی زیادتی سے پریشان ہیں۔ گائے اور بھینس کے دودھ میں بھی چونکہ قدرتی طور پر شکر موجود ہوتی ہے تو کئی لوگوں کے لیے گائے یا بھینس کا دودھ اور اس دودھ سے بنی مصنوعات کا استعمال دشواری کا باعث ہے۔ اگر آپ کے ساتھ بھی ایسی ہی کوئی دِقت ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ گائے اور بھینس کے دودھ کا متبادل موجود ہے جسے آپ بغیر کسی پریشانی کے اپنی روز مرہ خوراک کا حصہ بناسکتے ہیں۔ 
ذیل میں ہم آپ کے لیے ایسے چند متبادل دے رہے ہیں جنہیں آپ بغیر کسی پریشانی کے اپنی روز مرہ غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ کی ڈیری مصنوعات کو جزوِ بدن بنانے کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی اور آپ کا جسم زائد شکر بھی پیدا نہیں کرے گا۔ 


   
بادام کا دودھ:
ڈیری مصنوعات اور خاص طور پر گائے، بھینس کے دودھ کا بہترین متبادل بادام کے دودھ کو سمجھا جاتا ہے جسے دنیا بھر میں لوگ بے دھڑک استعمال کرتے ہیں اور اس سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسے بادام کی ثابت گریوں اور پانی کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ خوشبو دار، لذیذ دودھ ذائقے میں شیریں اور کمیت میں ہلکا ہوتا ہے جو معدے پر بوجھ نہیں بنتا اس لیے اسے بغیر کسی خوف کے پیا جاسکتا ہے۔ گائے کے دودھ کے مقابلے میں بادام کا دودھ کم وزن رکھتا ہے تاہم اس میں کیلوریز اور چکنائی کی مقدار گائے کے دودھ جتنی ہی ہوتی ہے اس لیے یہ آپ کے بدن کو ویسی ہی توانائی فراہم کرتا ہے جو گائے کے دودھ سے حاصل ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن ای کی بھی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جبکہ پروٹین اور کیلشیئم بھی پایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرینِ صحت شکر کی زیادتی سے پریشان افراد کو گائے کے دودھ کے متبادل کے طو رپر بادام کا دودھ تجویز کرتے ہیں۔


 
ناریل کا دودھ:
ناریل کی سفید رسیلی گریوں اور پانی کے ملاپ سے مزیدار ناریل کا دودھ تیار کیا جاتا ہے جو کہ زیادہ شیریں نہیں ہوتا بلکہ اس میں ناریل کا ذائقہ حاوی ہوتا ہے۔ ناریل کے دودھ میں گائے کے دودھ کی نسبت کیلوریز کی مقدار ایک تہائی تک کم ہوتی ہے جبکہ چکنائی، کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین بھی گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شکر کی زیادتی سے پریشان افراد کے لیے گائے کے دودھ کے مقابلے میں ناریل کا دودھ ایک نعمت ہے، تو پروٹین کے خواہش مند افراد کے لیے ناریل کا دودھ مناسب نہیں کیونکہ اس میں گائے یا بھینس کے دودھ کے مقابلے میں پروٹین کی مقدار نصف سے بھی کم ہوتی ہے۔ دوسری جانب جو لوگ اپنے بڑھتے ہوئے وزن سے پریشان ہیں ان کے لیے ناریل کا دودھ بہترین آپشن ہے کیونکہ اس کے استعمال سے جسم میں موجود چربی کی مقدار میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ناریل کا دودھ ہڈیوں کی مضبوطی میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔


 
جَو کا دودھ:
جَو اور پانی کو ملا کر بنایا جانے والا جَو کا دودھ بھی گائے کے دودھ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پینے میں اگرچہ اس کا ذائقہ گائے کے دودھ کی طرح شیریں اورلذیذ نہیں ہوتا مگر آپ اس کا ذائقہ بڑھانے کے لیے اس میں چینی، شہد یا نمک ملا سکتے ہیں۔ جَو کے دودھ میں بھی کیلوریز کی مقدار اتنی ہی ہوتی ہے جتنی گائے کے دودھ میں ہوتی ہے تاہم اس میں پروٹین، چکنائی اور کاربوہائیڈریٹ کی مقدار گائے کے دودھ سے دو گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے جو لوگ پروٹین اور چکنائی کے خواہش مند ہیں انہیں جَو کا دودھ ضرور استعمال کرنا چاہیے۔


 
 
چاول کا دودھ:
چاول کا دودھ پِسے ہوئے سفید یا بھورے چاولوں کو پانی میں ملا کر بنایا جاتا ہے۔ آپ اپنے ذوق کے مطابق اسے گاڑھا یا پتلا کرسکتے ہیں۔ چاول کا دودھ ذائقے میں ہلکا اور میٹھا ہوتا ہے اسے دودھ کے طور پر پینے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور میٹھے پکوان یا ڈیزرٹس کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چاول کے دودھ میں گائے کے دودھ کے برابر کیلوریز پائی جاتی ہیں تاہم اس میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار گائے کے دودھ سے دُگنی ہوتی ہے جبکہ پروٹین اور چکنائی کی مقدار گائے کے دودھ سے آدھی ہوتی ہے۔ اپنی روز مرہ خوراک میں دودھ اور ڈیری مصنوعات کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے لیے چاول کا دودھ بہترین انتخاب ہے۔


 
کاجُو کا دودھ:
کاجو کا دودھ کاجو کی گریوں یا کاجو کے مکھن کو پانی میں ملا کر تیار کیا جاتا ہے جو کہ پینے میں گاڑھا اور لذیذ ہوتا ہے۔ اس کے ذائقے میں پسی ہوئی گریوں کا مزہ شامل ہوتا ہے جو اسے گائے کے دودھ کے مقابلے میں منفرد بناتا ہے۔ گائے یا بھینس کا دودھ پینے کے عادی افراد کے لیے کاجو کا دودھ شروع میں ہوسکتا ہے اپنے گاڑھے پن اور سلونے ذائقے کی بنا پر زیادہ کشش کا باعث نہ ہو تاہم اپنی غذایئت کے لحاظ سے کاجو کا دودھ ایک شاندار چیز ہے جو آپ کو کیلوریز، چکنائی، پروٹین اور کاربو ہائیڈریٹ فراہم کرتا ہے۔ گائے کے دودھ کے مقابلے میں کاجو کے دودھ میں کیلوریز کی مقدار ایک تہائی ہوتی ہے جبکہ چکنائی اور پروٹین کی مقدار بھی نصف ہوتی ہے۔ دیگر نان ڈیری ملک کے مقابلے میں کاجو کے دودھ میں شکر کی مقدار خاصی کم ہوتی ہے جو کہ شکر کی زیادتی سے پریشان افراد کے لیے اچھی ہے۔ کاجو کا دودھ گھر پر بنانا انتہائی آسان ہے۔


 
تو جناب! جو لوگ ڈیری ملک کے بھاری پن سے پریشان ہیں ان کے لیے یہ کچھ متبادل ہیں جو با آسانی گھر پر تیار کیے جاسکتے ہیں اور انہیں بغیر کسی سائیڈ افیکٹ کے خوف کے استعمال کیا جاسکتا ہے۔  
دودھ کی یہ تمام اقسام صحت بخش ہیں اور ہمیں امید ہے کہ آپ انہیں بخوشی استعمال کرنا چاہیں گے۔ اگر آپ بھی اپنے جسم میں شکر کی زیادتی سے خائف ہیں تو بغیر کسی جھجھک کے یہ متبادل استعمال کریں اور ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی گزاریں۔ 
 

null

ایسا شخص جسے کھانوں سے بہت محبت ہے،مجھے لکھنا بھی نا قابل بیان حد تک پسند ہے۔ یہاں آپ سے ان بلاگز کے ذریعے اپنے کچھ ذاتی خیالات شیئر کر رہی ہوں۔

 

اپنی رائے دیں

 
 

اپنے ان باکس میں ترکیبیں، تجاویز اور خصوصی پیشکشیں حاصل کریں