logo
کھانے سے متعلق کچھ من گھڑت باتوں کی حقیقت سامنے آگئی

کھانے سے متعلق کچھ من گھڑت باتوں کی حقیقت سامنے آگئی

کھانے سے متعلق کچھ من گھڑت باتوں کی حقیقت سامنے آگئی

ہمارے باورچی خانے میں کھانے پینے سے متعلق بہت ساری باتیں گردش کرتی رہتی ہیں جو ہمارے اعتماد کو ڈانواں ڈول کر کے کافی الجھن میں ڈال دیتی ہیں کہ کس کا پر بھروسہ کرنا چاہیے اور کس کا نہیں۔۔۔
نہ جانے کیا صحیح  ہے اور کیا غلط ہے۔ کھانے پینے کے تمام ٹرینڈز کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہے کہ کون سا رجحان صحیح ہے اور کون سا نہیں۔ 
آپ کو کھانے کی دنیا کی غلط معلومات اور غلط فہمیوں سے نکالنے کے لیے  ہم کھانے کی کچھ عام افسانوی باتوں سے پردہ چاک کر رہے ہیں تاکہ آپ مستقبل میں صحت بخش کھانے کا انتخاب کرسکیں۔ یہاں پرموجود کچھ حیران کن باتیں ملاحظہ کریں۔



انڈے کھانے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے:
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مرغی کے انڈے میں تقریباً ایک سو چھیاسی ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے۔ انڈوں میں یقینی طور پر مناسب (درمیانی) مقدار میں کولیسٹرول ہوتا ہے۔ بہرحال یہ کہنا کہ انڈا کھانے سے آپ کے کولیسٹرول کا لیول بڑھ جائے گا یہ بلکل ہی افسانوی اور غلط بات کے سوا کچھ نہیں۔ ڈائٹری کولیسٹرول سے خون کے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔  بلکہ اس کے بجائے، ایسے کھانوں کا استعمال جن میں چربی (ٹرانس فیٹ) زیادہ ہو، یا غیر صحت مند سیٹوریٹڈ فیٹ ہو تو وہ خون کے کولیسٹرول میں اضافے کاسبب بن سکتا ہے۔۔ اگر آپ کو انڈے کھانا پسند ہے تو پھر انہیں کم تیل میں پکانے کی کوشش کریں اور یاد رکھیں انڈوں کی مزیدار تراکیب ٹرائی کرنے سے خود کو مت روکیں

●   شاک شکا
●   انڈا پراٹھا

 کاربز گھٹانا وزن کم کرنے کا موثر طریقہ ہے :
آج کے دور میں ڈائٹ کھانا بڑا مشہور ہے، ایٹکنز سے لے کر کیٹو تک۔ یہاں بہت ساری غذائیں ایسی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اضافی وزن کم کرنے میں آپ کی مدد گار ثابت ہونگی۔ تاہم ، ایک بات جو ان تمام ڈائٹس میں مشترک ہے اور جو بالکل ہی من گھڑت ہے وہ یہ کہ" کاربس کاٹنا وزن کم کرنے کا ایک صحتمند طریقہ ہے۔" یعنی کاربوہائڈریٹس کم کرنے سے وزن بھی کم ہوگا۔ اور اگر آپ بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں تو یہاں آپ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک غلط فہمی ہے اور حقیقت سے بالکل بھی  قریب نہیں۔ اپنی غذا سے مکمل طور پر کاربوہائیڈریٹس نکال دینے سے شروعات میں تو آپ کے وزن میں بہت تیزی سے کمی آسکتی ہے مگر آگے جا  کر یہ آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ آپ میانہ روی اختیار کریں اور مختلف کھانوں سے کاربز، پروٹین اور فیٹ حاصل کریں۔



کافی پینا اچھی یا صحت بخش عادت نہیں:
ہم سب ہی اس بات کا سامنا کرتے ہیں کہ کیفین کو اسٹاک کرنا اور روز مرہ  کی بنیاد پر اپنی خواہش کے مطابق  یا پھر جب دل چاہے تب استعمال کرنا نقصان پہنچاتا ہے۔ تاہم ، کیفین کے شوقین افراد کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اب بھی روزانہ اپنا معمول کا کافی کا کپ پی سکتے ہیں۔ کافی پینا آپ کی صحت کے لیے خطرناک نہیں ہے اور یہ صحت سے متعلق کسی خاص قسم کے مسائل یا بیماریوں کا باعث بھی نہیں بنتی۔ کچھ تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کافی آپ کے جگر کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے اور دوسرے درجے کی ذیابیطس کے خطرے کو بھی کم کرسکتی ہے۔ کافی پینے سے متعلق خیال رکھنے والی بات بس یہ ہے کہ آپ ایک دن میں کتنی کافی پی رہے ہیں اور کون سی کافی استعمال کر رہے ہیں۔ کیونکہ کافی خود سے نقصان دہ نہیں ہے البتہ اس میں شامل چینی اور کافی کی زائد  مقدار (خوارک) آپ کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔


 
 مسالے دار کھانے السر کا باعث بنتے ہیں :
اگر آپ مسالہ دار کھانوں کے شوقین ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ آپ نے یہ بات تو ضرور سنی ہوگی کہ تیکھا کھانا کھانے سے السر ہوتا ہے مگر ہم آپ کو ایک خوشخبری سنائیں۔ جی ہاں ، آپ نے صحیح اندازہ لگایا۔ یہ صرف ایک وہم ہے۔ کیونکہ چٹخارے دار کھانے کسی بھی طرح السر کا سبب نہیں بنتے۔ السر (ہیلی کوبیکٹر پائلوری) نامی جراثیم کی وجہ سے ہوتا ہے، جو تقریباً تمام طرح کے السر کاسسب بنتا ہے۔ سوائے ان کے جو کچھ دوائیوں سے پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ اسپرین۔ مسالہ دار کھانوں کا زیادہ استعمال دراصل آنتوں میں تکلیف کاسبب بنتا ہے جسے اکثر لوگ السر کا درد سمجھ بیٹھتے ہیں۔


 
 رات گئے کھانا مطلب وزن بڑھانا ہے:
یہ بھی محض ایک اور فرضی بات ہے۔ رات  دیر سے کھانے کے نتیجے میں وزن نہیں بڑھتا مگر دن بھر میں اپنے جسم کو درکار کیلوریزکی زائد مقدار دینا آپ کے وزن میں کچھ اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پرآپ جتنی بھی کیلوریز لیتے ہیں اس حساب سے ان کو دن بھر میں جلاتے، برن بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ اپنی ضرورت سے زیادہ کیلوریز لینا یہ چیز آپ کے وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ تو کھانے کا وقت دراصل مسئلہ نہیں  بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ کھانے میں موجود کیلوریز کی مقدار کہیں آپ کی ضرورت سے زیادہ تو نہیں یا جو آپ کھا رہے ہیں اسی حساب سے اسے برن بھی کر رہے ہیں یا نہیں، یہ اہم بات ہے۔ پورے دن میں کیلوریز کا حساب کتاب اور مقدار کا تعین کرنا ضروری ہے۔

ہر کسی کو دن میں آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے :
یہ حقیقت شاید آپ کو حیران کردے مگر جی ہاں یہ ایک فرضی بات ہے۔ دراصل ہائیڈریشن ضروری ہے، لیکن دن میں آٹھ گلاس پانی پینے کا قاعدہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ تحقیق کے مطابق ابھی تک یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ پانی کی مقدار اور گردوں کی بیماری میں کوئی تعلق ہے، یا اسی طرح کی کسی دوسری بیماری کے مابین بھی کوئی ربط نہیں ملا ہے۔ اس کے باوجود ، پانی کیلوریز سے پاک ہوتا ہے اگر ہم اس کا موازنہ سوڈا یا اسپورٹس ڈرنکس جیسے دوسرے میٹھے مشروبات سے کریں ، تو بانسبت دیگر میٹھے مشروبات کے پانی پینا بہتر ہے۔ جب بھی آپ کو پیاس لگے تو پانی پئیں کیونکہ گلاس کی تعداد اور گنتی اہم نہیں ہے۔

 چاکیلٹ کھانا ایکنی، کیل مہاسوں کا سبب:
ایک اور چیز کہ چاکلیٹ کھانے سے ایکنی ہوتی ہے یہ بھی سیدھی سی ایک افسانوی بات ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ چاکلیٹ کھانا کیل مہاسوں  کا سبب نہیں ہے۔ آپ کے چہرے پر کتنے داغ، دھبے یا دانے ہیں؟ اس بات کا آپ کے چاکلیٹ کھانے کی مقدار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 


 
  پانچ سیکنڈ والا اصول :
ہم سب نے اس کا سامنا کیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ کھانے سے متعلق فرض کیا جانے والا ایک عام خیال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا کھانا زمین پر گرجائےاور آپ 5 سیکنڈ گزرنے سے پہلے ہی اسے اٹھالیں تو پھر آپ اسے کھا سکتے ہیں اور یہ آلودہ، خراب  نہیں ہوا ہوگا ۔ بہرحال ہم آپ کو بتا دیں کہ یہ معلومات بالکل غلط ہیں۔ کھانے کو آلودہ کرنے اور کھانے سے چپکنے میں  جراثیم اور بیکٹیریا کو صرف ایک سیکنڈ لگتا ہے ۔ تو یہ 5 سیکنڈ والا اصول دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ڈیٹاکس ڈائٹ اور کلیئرنس جراثیم بھگانے میں مدد گار: 
آج کل ہم لوگ ڈائٹ اور صاف ستھرے کھانوں  کے چکر میں اتنا پڑگئے ہیں کہ ہم اپنے اندر کی صفائی کرنے کے لیے غذا، کھانے سے متعلق کسی بھی چیز یا بات پر فوراً یقین کرلیتے ہیں۔ ہمیں یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ ہر چیز کا تعلق ڈائٹ سے ہے وہ ہمیں کلینز کردے گی۔۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے جسم سے زہریلے مادے کو دور کرنے کے لیے اسے کسی بھی قسم کی ڈیٹاکسنگ یا صفائی کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہمارے جسم سے زہر کو دور کردے۔ اس کے بجائے ، ہمارے جسم میں جراثیم  سے نجات کے لیے قدرتی طورپر پہلے سے ہی ایک اندرونی نظام موجود ہے جو زہر کو دور کرتا ہے اور یہ ہمارے گردے اور جگر ہیں جو ہمارے بدن میں موجود خون اور پانی کو صاف رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو زہریلے مادوں سے نجات کے لیے ڈیٹاکسنگ یا کلینزنگ جوسز پینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔


 
روزانہ ایک سیب ڈاکڑ سے دور رکھتا ہے:
یہ ہم سب نے کئی مرتبہ سنا ہے، اگرچہ سیب میں وٹامن سی، آئرن اور فائبر کی بھرپور مقدار موجود ہوتی ہے، جو آپ کے جسم کے لیے بہت اہم ہے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا  آپ دن میں ایک سیب کھا سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ ڈاکٹر کو آپ سے دور رکھے گا کیونکہ اگر جراثیم آپ کے اندرونی نظام میں داخل ہوگئے ہیں اور آپ کو نزلہ ہوگیا ہے تو سیب آپ کی مدد نہیں کریں گے۔ آپ صرف سیب کھانے سے صحیح نہیں ہوجائیں گے بلکہ آپ کو فلو کی ویکسین کرانی ہوگی۔

یہ کھانے سے متعلق کچھ ایسی فرضی باتیں تھیں جنہیں ہم حقیقت سمجھتے ہیں اور آئے دن سنتے رہتے ہیں۔ لہٰذا ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ جو کچھ  بھی سنتے ہیں اس پر یقین نہ کریں۔ کچھ سنیں تو اس پر عمل کرنے سے پہلے اور  اپنے کھانے کے حقائق کو ٹھیک کرنے کے لیے اپنی تحقیق ضرور کرلیں۔ 
 

null

ایسا شخص جسے کھانوں سے بہت محبت ہے،مجھے لکھنا بھی نا قابل بیان حد تک پسند ہے۔ یہاں آپ سے ان بلاگز کے ذریعے اپنے کچھ ذاتی خیالات شیئر کر رہی ہوں۔

 

اپنی رائے دیں

 
 

اپنے ان باکس میں ترکیبیں، تجاویز اور خصوصی پیشکشیں حاصل کریں