کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے پانچ طریقے:

کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے پانچ طریقے:

کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے پانچ طریقے:

کھانے کا زیاں پوری دنیا میں ایک اہم مسئلہ ہے جو زمین کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ 
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تقریباً ہر کوئی ہی اس نقصان میں برابرکا شریک ہے۔۔
حالیہ اعدادوشمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال صرف 1.3 بلین ٹن فضلہ خوراک سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے نتائج تباہ کن ہیں۔ خراب ماحولیاتی حالات ایسی وجوہات سے ہی پیدا ہوتے ہیں جس کے باعث  ہوا میں میتھین گیس کی زیادہ مقدارخارج ہوتی ہے۔ سڑکوں پر کچرے میں اضافہ ہوتا ہے جو گل سڑ جاتا ہے، مقامی ماحول میں بڑھتی آلودگی اور صحت کے کچھ مسائل اور بیماریاں پید اہوتی ہیں جیسے دمہ، پھیپھڑوں کا ناکارہ ہوجانا یا ان پر سوجن، ورم وغیرہ  آجانا بڑوں اور بالخصوص دو سال کی عمر کے بچوں میں نمایاں بیماری ہے۔۔
اگر بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے کھانے ضائع کرنے کا عمل جاری رہتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والا فضلہ صحیح طرح سے تلف نہیں ہوتا تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی تشویش ناک صورتحال ہوگی، کیونکہ ایک طرف تو کھانے کا ضائع ہونا غیر مناسب بات ہے تو دوسری طرف اس ضائع شدہ کھانے کو مناسب انداز میں تلف نہ کیا جانا بھی اپنی جگہ ایک اہم مسئلہ ہے۔  ہم سمجھتے ہیں کہ کچرا کم کرنے کی کوشش آپ کو

اپنے گھر سے ہی شروع کرنی چاہیے۔۔ آپ اپنے گھر سے پیدا ہونے والے کچرے کو کم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کر سکتے ہیں۔
 
منصوبہ بندی کریں: 
 
کھانے کے زیاں کو کم کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ وقت سے پہلے اپنے کھانے کی منصوبہ بندی کریں۔ اس کا مطلب پورے ہفتے کے لیے تمام کھانے تیار کرنے کی کوشش کرنا ہے، جس میں ان تمام کھانوں کی منصوبہ بندی کرنا شامل ہے جو آپ آئندہ ہفتے میں پکائیں گے۔ کھانے سے پہلے کھانا پکانے کے لیے درکار تمام اجزاء کو نوٹ کرنے سے آپ اپنی ضرورت کے مطابق چیزوں کی صحیح مقدارجان سکیں گے کہ کیا چیز آپ کے کچن میں موجود ہے اور کیا چیز نہیں ہے اور اس طرح کھانا بھی کم ضائع ہوگا۔ لہٰذا اگلی بار جب آپ گروسری اسٹور پر جائیں تو، ہفتے بھر کے لیے اپنے کھانے پینے کی منصوبہ بندی کرنا یاد رکھیں تاکہ آپ خود کو ماحول کو آلودہ کرنے سے بچاسکیں اور ایسی غیر ضروری چیزیں لینے سے احتیاط کریں جس کی آپ کو ضرورت نہیں۔
اور اگر آپ نہیں جانتے کہ آپ کو کیا پکانا ہے، چیزوں کو ضائع ہونے سے کس طرح بچانا ہے تو آپ کی مدد کے لیے یہاں ایک آسان ہدایت نامہ موجود ہے۔ دیے گئے لنک کو وزٹ کریں۔ اس سادہ اور آسان گائیڈ سے استفادہ حاصل کریں۔
 

2 ۔  بچ جانے والے کھانے کو فریز کرلیں:
ستر فیصد کھانے کا فضلہ بچا ہوا کھانا پھینکنے سے پیدا ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں لوگ بچے ہوئے کھانے کو لمبے عرصے تک فرج میں رکھنے کے بعد کچرے کے ڈبے میں پھینکنے سے شرمندہ ہیں۔ اپنے بچ جانے والے کھانے کو بغیر کھائے فرج میں رکھنے کے بجائے اسے فریزر میں محفوظ کریں تاکہ ضرورت کے وقت استعمال کرسکیں اور بعد میں یخنی یا اِسٹو وغیرہ بنانے کے کام میں لاسکیں۔
ہر چیز پر لیبل لگانے کی کوشش کریں، تاکہ ضرورت کے وقت آپ کو ڈھونڈنا نہ پڑے۔ اس طرح آپ بہت سارے پیسے اور وقت دونوں بچاسکتے ہیں اور اس طرح کھانا بھی کم ضائع ہوگا۔۔



  3 ۔ سمجھداری سے چیزیں خریدیں:
کھانے کو ضائع ہونے سے روکنے کے لیے ہوشیاری سے خریداری کرنا ایک ضروری اقدام ہے۔ کوشش کریں کہ ایسی چیزیں نہ ہی خریدیں جن کی آپ کو ضرورت نہیں۔ آپ یہ کام گروسری اسٹور جانے سے پہلے اپنی الماری اور فریج کی تصاویر کھینچ  کر بھی کرسکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ آپ نے کیا لینا ہے اور کیا چیز آپ کے پاس پہلے سے موجود ہے۔



4 ۔ ہمیشہ ایکسپائری ڈیٹ پر نظر رکھیں:
ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ سودا سُلف خریدنے سے پہلے خراب ہونے والی اشیا یا پھر جن چیزوں کی میعاد ختم ہونے والی ہو ان  کا استعمال بروقت کر لیں۔ ہم اس بات پر زور دیں گے کہ صرف وہی چیز استعمال کریں جس کی ایکسپائری باقی ہو۔۔۔ خریداری کرتے وقت وہ چیزیں خریدیں جن کی مدت استعمال زیادہ ہو۔۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ آپ گھر پر کوئی چیز لائیں اور کچھ دن میں ان کی تاریخ ایکسپائر ہوجائے اور آپ کو اسے ضائع کرنا پڑے۔۔ ان تاریخوں کو چیک کرنے سے ہماری خریدی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوں گی اور اس طرح کھانے کا زیاں بھی نہیں ہوگا۔۔



 5 ۔ کھاد بنائیں :
کھانے کے زیاں کو کم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ اسی کو کھاد بنادینا ہے۔ یہ عمل ہمارے ماحول کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند اور کار آمد ہے۔ اس سے آپ ضائع شدہ کھانے کی مقدار کو کم کرسکتے ہیں ، فرٹیلائزر اور پیسٹیسائیڈز کا بہترین نعم البدل ہے۔ مطلب یہ کھاد اور کیڑے مار ادویات کی ضرورت کو بھی کم کرتا ہے۔ یہ مائیکرو آرگینیزم پیدا کرنے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ جو آلودگی سے پیدا ہونے والے زہریلے مواد اور خراب کیمیکل کی تاثیر کم کرنے کے لیے نہایت مفید ہے۔

ان پانچ طریقوں کو اپنی روز مرہ زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کریں  تاکہ کھانے کے زیاں کو کم کیا جاسکے۔۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے اس چھوٹے سے عمل سے موسمیاتی تبدیلی میں کتنی بہتری لائی جاسکتی ہے اور یہ تمام چیزیں ماحولیاتی تبدیلی، صاف ستھرے اور صحت مند ماحول میں کتنی معاون ثابت ہوں گی، تاہم ایک بات طے ہے کہ اگر ہم سب کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش کریں تو کئی بھوکوں کا پیٹ بھرا جاسکتا ہے۔  
 

null

ایسا شخص جسے کھانوں سے بہت محبت ہے،مجھے لکھنا بھی نا قابل بیان حد تک پسند ہے۔ یہاں آپ سے ان بلاگز کے ذریعے اپنے کچھ ذاتی خیالات شیئر کر رہی ہوں۔

 

اپنی رائے دیں

 

رائے (1)

 

اپنے ان باکس میں ترکیبیں، تجاویز اور خصوصی پیشکشیں حاصل کریں